1 جون 2026 - 21:34
مآخذ: ابنا
کرملین: فرانس کی جانب سے روسی آئل ٹینکر کی ضبطی بحری قزاقی کے مترادف ہے

روسی صدارتی دفتر نے فرانس کی جانب سے روسی آئل ٹینکر "تاگور" کی ضبطی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قزاقی کے مترادف عمل قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،روسی صدارتی دفتر نے فرانس کی جانب سے روسی آئل ٹینکر "تاگور" کی ضبطی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قزاقی کے مترادف عمل قرار دیا ہے۔

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو فرانس کے اس اقدام کو کسی صورت قانونی نہیں سمجھتا اور یہ دعویٰ مسترد کرتا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے مطابق کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی بحری قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کے قریب ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فرانسیسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بحری افواج نے بحرِ اوقیانوس میں ایک آئل ٹینکر کو روکا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے علاقے مورمانسک سے روانہ ہوا تھا اور مبینہ طور پر جعلی پرچم استعمال کر رہا تھا۔ تاہم جہاز سے متعلق ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر مڈغاسکر کے پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن برطانیہ کی معاونت سے انجام دیا گیا۔

کرملین ترجمان نے مزید کہا کہ روس پہلے بھی ایسے اقدامات کے تناظر میں اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات کر چکا ہے اور آئندہ بھی اپنے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

ماسکو میں روسی سفارت خانے نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ فرانسیسی حکام نے اس کارروائی سے قبل سفارتی مشن کو آگاہ نہیں کیا، جبکہ یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جہاز کے کپتان کے روسی شہری ہونے کا امکان ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha